پاکستان : آٹھ فروری کا انتخاب اور سات  بڑے مسائل، کون کرے گا حل؟

جاوید انور

پاکستان میں الیکشن کے نام پر آٹھ فروری  کو کیا ہونے جا رہا ہے،  اور پاکستان کے ووٹرز  کو کیا کرنا چاہئے،اس پر میرا تبصرہ ہے کہ 

نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں

نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے

نیا چراغ کہاں ہے، کدھر ہے  اور کون ہے؟ اس سوال کے جواب حاصل کرنے کے لیے  ہمیں  پاکستان  کے بڑے مسائل پیش کرکے چند سوالات اٹھانے ہوں گے؛

١- پاکستان کا پہلا  سب سے بڑا مسئلہ غلامی ہے۔

عالمی مقتدرہ نے مقامی  مقتدرہ سے مل  کر ریاست کو غلامی کی زنجیر سے جکڑا ہوا ہے۔ مغربیت ؛ مغربی نظام، مغربی تہذیب، مغربی تعلیم، مغربی ثقافت،  مغربی زبان، انگریزی،  بیوروکریسی ، افسر شاہی ،  لال فیتہ ، گریڈ سسٹم، بڑا بابوچھوٹا بابو، بڑا صاحب چھوٹا صاحب،  کلرک،  چپراسی، مغربی معاشی نظام، سرمایہ دارانہ نظام، امریکا، یو ایس اے فارن آفس، سکریٹری خارجہ، ڈیفنس  سکریٹری،  پینٹاگون، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، عالمی ایجنسیاں، اشتہاری ایجنسیاں، امریکی  تھنک ٹینکس،   قرضے،  وہائیٹ کالر جاب  ،بلیو کالر   نوکری،  بیروزگاری، مفلسی،   طاغوتی عدلیہ، کالا کوٹ،  جھوٹ سے پُرکالی زبان،’’مائی لارڈ‘‘  بنے جج صاحبان،  بلیک گاوُن کے پیچھے بلیک ہارٹ، اونچی  تنخواہیں،  اعلیٰ آسائشیں ، ذاتی اور  نفسانی خواہشات پر مبنی  فیصلے، جھوٹ، طاقت  اور دولت سے جھکتے ہوئے عدل کے ترازو، مغربی  طرز کا ابلاغیہ، اخبار جھوٹ کا پلندہ،   ٹی وی کی فحاشی، خاندان  اور خاندانی نظام توڑنے والے ڈرامے، جھوٹ سے تراشی خبریں، فیک نیوز، ڈیسک اسٹوریز،  حیوانی جذبات بھڑکانے والے اشتہارات، اور  غلامی کو برقرار رکھنے کے ہزاروں طور طریقے، اوزار، اقدام، سرمایہ کاری، مقامی  ادارے،  این جی اوز،  فوج کا عتاب، پولیس کے ڈنڈے ، آْنسو گیس اور پتھر۔

طویل غلامی نے پاکستانی  جسم کے پوست، پوست کے نیچے گوشت، گوشت کے اندر  کی رگیں، رگوں کے درمیان ہڈیاں،  اورہڈیوں کے اندر کے  مغز  کو بری طرح متاثر کیاہے، اسی مغز سے بنا خون  آج کے  پاکستان کے دل کو سیراب کر رہا ہے۔

تو اس غلامی سے نجات کون دلا سکتا ہے؟ راستہ کیا  ہے؟

٢ ۔   پاکستان کا  دوسرا سب سے بڑا مسئلہ عدل کا  فقدان ہے

عدل، انصاف کے صرف اس شعبہ  میں نہیں جس کا تعلق تعزیرات سے ہے۔ بلکہ اس کا تعلق  خاندانی عدل، عائلی عدل،    وراثتی عدل، سماجی عدل، سیاسی عدل، معاشی عدل، تعلیمی عدل، انتظامی عدل، قومی  عدل،  انسانی عدل، ، عالمی عدل، ماحولیاتی عدل ،  اور جانوروں کے ساتھ عدل  سے  بھی ہے۔ جانوروں کا بھوکا رہ جانا، یا اس پر تشدد کرنا ظلم ہے یعنی یہ  عدل کے برعکس ہے۔ مختصر یہ کہ اس مملکت، اس دنیا کو عدل کے اس نظام پر قائم کر دینا  جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یعنی دنیا کے نظام کو کائنات کے نظام سے ہم آہنگ بنا دینا۔

عدل کا نظام کوئی انسان نہیں بنا سکتا ہے کیونکہ انسان زمان و مکان میں مقید ہے اور مختلف قسم کے تعصبات میں جکڑا ہو ا ہے۔ انسان کا بنایا ہوا عدل کا نظام انسان کے درمیان عدل قائم نہیں کر سکتا۔ انسانوں اور ممالک میں عدل کا قیام صرف انسانوں کے خالق کے دیے  ہوئے نظام سے ہی ممکن  ہے۔ اللہ نے اپنے آخری نبیﷺ کے ذریعہ جو کتاب (القرآن) اور  سنت (حدیث) بھیجی ہے اس سے نکلی ہوئی شریعت سے ہی عدل قائم ہو سکتا ہے۔ شریعت کا سب سے بڑا مقصد عدل کا قیام  ہی ہے۔ شریعت کے بغیر عدل قائم نہیں ہو سکتا ہے۔ مشہور مفکر اسلام اور فقیہ، محدث، اور سیرت نگار علامہ ابن قیمؒ (متوفی ۷۵۱ ھ) نے  لکھا ہے کہ ’’ شریعت کے احکام تمام تر عدل ہیں، شریعت سراپا عدل ہے۔ جہاں شریعت ہے وہاں عدل ہے۔ جہاں عدل ہے وہاں شریعت ہونی چاہیے۔ اور جہاں عدل نہیں ہے وہاں شریعت نہیں ہو سکتی۔‘‘

تو عدل کے قیام کے لئے پاکستان کا کون سا سیاسی گروہ ہے جو شریعت نافذ کر سکتا ہے؟

٣​ ۔   پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ  تعلیم اور تعلیمی نظام  کا  فقدان ہے

تعلیم کی  معیار اور مقدار دونوں لحاظ سے تباہ کن صورت حال ہے۔  تعلیم کا مفہوم، مقصد تعلیم،   طریقہ تعلیم کو متعین کیے بغیر تعلیم دینا نفع بخش نہیں الٹا نقصان دہ  ثابت ہوا ہے،  نتیجہ  برعکس   نکلا ہے۔ پاکستان کے تمام ننگ دین، ننگ ملت، ننگ وطن، غدار، خائن، جھوٹے ، دغا با ز، فراڈیے ، گھپلے باز اور فتنہ پرداز  تعلیم یافتہ لوگ ہی ہیں۔   

تعلیم کی تعریف میں ایک امریکی ماہر تعلیم، تاریخ نویس، مصنف اور فلسفی    وِل  دورانت (وفات ۱۹۸۱) لکھتا ہے کہ’’ تعلیم تہذیب کی منتقلی کا نام ہے ‘‘   یعنی  دوسرے لفظوں میں ’’ جب ایک نسل اپنی نئی نسل کو  اپنا  ایمان، اپنا عقیدہ، اپنی الہامی تعلیمات،  حکمت و دانائی کی باتیں،  ادب و  آداب،  فن و ہنر، طور طریقہ، تجربات، اپنی  روایات،  اپنی ثقافت، اپنی زبان، اپنا انداز ،  اپنی تاریخ اور اپنے ہیرو زکے کارناموں اور کہانیوں کو  منتقل کرتی ہے،  تو اس عمل کو تعلیم  کہتے ہیں ۔ ’’سوال ہے کیا پاکستان کے بچے تعلیم  حاصل کر رہے ہیں؟  ‘‘اللہ نے قرآن کے ذریعہ ہمیں ایک دعا  سکھائی کہ ’’ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں حسنات ( بھلائی )دے اور آخرت میں بھی حسنات  ، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا‘‘۔  تو ہمارے تعلیمی نظام کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ ہمارے نوجوان دنیا اور آخرت دونوں  کے حسنات حاصل کریں، اور  ان کی ایسی تعلیم و  تربیت ہو کہ وہ دوزخ  کی آگ سے بچ جائیں۔  تعلیم  کا بنیادی مقصد اخلاق کی تعمیر ہے۔ اور اخلاق کا اعلی ترین نمونہ، اسوہ حسنہ محمد رسول اللہﷺ ہیں۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ

پاکستان  کے نظام تعلیم سے تعلیم کی دوئی  یعنی  دین و دنیا اور امیر و غریب کی تعلیمی تقسیم کو بھی دور کرنا ہوگا۔

تو سوال ہے کون کرے گا، اور کون کر سکتا ہے یہ کام؟

٤ ۔ پاکستان کا  چوتھا سب سے بڑا مسئلہ سود ہے

 سود کا خاتمہ اسلام  کی طلب ہے،  اللہ کا حکم ہے، شریعت کا  مطالبہ ہے، دستورِ پاکستان کا تقاضا ہے، اور پاکستان کی عدلیہ کا فیصلہ ہے۔ سود کے خاتمہ کے بغیر سرمایہ داری، افراط زر،    کساد بازاری، تجارت بندی، دوکان کی تالہ بندی، معاشی سست روی ،  زر پرستی ،  منا فع پرستی،  ذخیرہ اندوزی ، معاشی عدم مساوات ،  تقسیم ثروت کا بگڑا ہوا توازن،  ارتکاز سرمایہ، معاشی  معاندانہ جدوجہد، استیصال، نامساعد حالات، طبقاتی کشمش،   معیشت کی  اونچ نیچ، نشیب و فراز، چڑھاوُ  اُتار، پیچ و خم،  بیروزگاری، مفلسی، بھوک، فاقہ اور اس کے نتیجہ  میں معاشرہ میں آہیں، کراہیں، چیخیں اور تڑپیں، اور خاندان میں صلہ رحمی، قرابت داری، غربا پروری، انسان دوستی کا خاتمہ۔ یہی ہیں سود کے سوغات۔ علامہ اقبال ؒ کہتے ہیں کہ

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے

سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات

اور

تدبر کی فسوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا

جہاں میں جس تمدن کی بنا سرمایہ داری ہے

تو کون کرے گا سود کے خاتمہ کا  بڑا  اور کڑا فیصلہ؟

٥ ۔   پاکستان کا پانچواں  سب سے بڑا مسئلہ زبان کا مسئلہ ہے

 بنگال کی انگریزی حکومت نے جب نوکری کے لئے انگریزی زبان  کو لازمی قرار دیا تھا، اور انگریزی  کے حروف  پڑھ لینے والے  اور انگریزی میں  ریلوے اسٹیشن کا نام پڑھ لینے والوں کو اسٹیشن ماسٹر کی نوکری ملنے لگی تھی تو راتوں رات، انگریزی  حروف تہجی  کا رٹا  لگا کر   چٹرجی، بنر جی ، مکھرجی  وغیرہ اینگلو انڈین بن گئے اور نئے سرکار کے ملازم ہو گئے۔ مسلمانوں کے فارسی ، اردو اورعربی زبان کے بڑے بڑے  عالم، فاضل، دانشمند،  اور ہنر مند بیروزگار ہوگئے، اور فاقہ مستی پر مجبور ہو گئے۔  غیر زبان کی غلامی سے ایک قوم کی تہذیب، ثقافت،  ادب اور روایات کمھلانے لگیں۔  انگریزی حکومت مسلمانوں کی ہری بھری سر سبز و شاداب وادی سے  زبان کا حسن، پھولوں  کی خوشبو، کوئل کی کوکو، پپیہے کی پکار اور نغموں کی جھنکار سب کچھ  چھین کر لے گئی ۔

پاکستان کے انگریزی غلام حکمرانوں نے بھی انگریزی کو بذریعہ اقتدار  و طاقت نافذ کیا اور اردو کو دبانے اور کچلنے کی برابر کوسشیں  کرتی رہی۔ دستور پاکستان کا تقاضا اور قانون کے مطابق پاکستان کی  سرکاری اور دفتری زبان بہت پہلے اردو ہو جانی چاہیے تھی،لیکن  پاکستان کے  انگریزی وفادار حکمرانوں نے مسلسل  دستور اور قانون کی خلاف ورزی کی۔ سپریم کورٹ  آف پاکستان صرف مقتدرہ  اور اشرافیہ کے مفاد کے  لیے  عدالت سجاتی ہے،  قوم اور اس کی زبان کا مفاد  اسے پیارا نہیں ہے۔ اردو زبان جس میں ہماری ملت کے دماغوں میں خیال جنم لیتے تھے، اور جس میں خیال کو اظہار، اظہار کا وسیلہ ، وسیلہ کو اسلوب،  اسلوب کو لہجہ اور لہجے کو تاثیر اور لذت ملتی تھی ۔ اور  نسلوں کی نشست و برخواست، حفظ  مراتب،  رفتار و گفتار، جس کی تعمیر اور تشکیل  میں سلف کا خونِ جگر صرف ہوا تھا، وہ زبان اس قوم سے چھین لی گئی ۔

اردو زبان کا احیا ءایک تہذیب کا احیا ءہے، اور یہ اسلامی تہذیب  کا احیا ء ہے ۔

کون کرے گا اردو  زبان کا احیا ء؟

٦ ۔ پاکستان کا   چھٹا  سب سے بڑا مسئلہ انتخابی نظام کی خرابی کا مسئلہ ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔  اور ایک اسلامی ریاست میں امام اقتدار (امیر، خلیفہ، امام، صدر، وزیر اعظم )  کا  چناوُ کیسے  ہوگا؟   یہ بہت  اہم موضوع ہے۔موجودہ نظام انتخاب غیر اسلامی، جاہلانہ ، ظالمانہ،  غیر منصفانہ ، غیر شفاف،   دھندلا، قابل خرید،   بر بنیاد پروپگنڈا،  دولت سے  اثر انداز اور  طاقتور کی رکھیل ہے۔ یہ نظام انگریزی کے ۵ ایم سے چلتا ہے۔ یعنی یہ نظام منی، میڈیا، مسل، اورملٹری  کے مینیجمنٹ سے چلتا ہے،  اس نظام  سے خیر برآمد ہونا مشکل  ہے، جب کہ اس سے شر کی پیداوار کی بہتات ہے۔اسلامی پاکستان کے علمائے کرام کو سرجوڑ  کرجدید دور میں امیر کے انتخاب کے طریقہ اور منہج  پر اجتہاد کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں قرآن و سنت، خلفائے راشدین خصوصاً عمر فاروقؓ اور حضرت علی ؓکے سیاسی اجتہادات  سے روشنی ملے گی۔ اسلام میں قیادت کے لیے دو خصوصیات کا پایا جانا لازمی ہے۔ پہلی خصوصیت صالحیت اور دوسری خصوصیت  صلاحیت  ہے یعنی کہ  للّٰہیت  اور اہلیت،    تقویٰ اور انتظام، علم و عمل، کردار اور رہنمائی کی صفات کی  بہترین آویزش اوراس کا بہترین سنگم ۔

تو  انتخابی نظام میں تبدیلی کے لیے کون  کرے گا حوصلہ اور  جُٹائے گا ہمت؟

٧ ۔ پاکستان کا ساتواں سب سے بڑا مسئلہ دستور کی  اصلاح  کا مسئلہ ہے

 قرارداد مقاصد پاکستان، آئین پاکستان کی تمہید ، اب دستور کا حصہ ہے۔  جس کے مطابق  اب پاکستان میں قرآن و سنت کی بالادستی قائم ہو چکی ہے۔ قرآن و سنت سے ہٹ کر پاکستان میں قانون سازی نہیں کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ  دستورپاکستان کے وہ تمام  باب، آرٹیکلز،  ضابطے ، شِقّات،  ترمیمات ، اور تشریحات، کی اصلاح کرنی ہوگی جو قرآن و سنت سے ہٹ  کر بنائے گئے ، لکھے گئے  اور لکھوائے گئےہیں۔ اسے دستور میں تبدیلی نہیں بلکہ دستور کی   اصلاح کہیں گے۔ اب پاکستان میں  برٹش نظام  پر مبنی عدلیہ ،  برٹش انڈین پینل کوڈ، اور  برطانوی اینڈین امپیریل پولیس کے قوانین    کی  کوئی گنجائش نہیں  ہونی چاہیے۔دستور کو مقاصد پاکستان سے مکمل ہم آہنگ اور تال میل بنانا آئینی تقاقضا  اور قومی فریضہ  ہے۔  

تو سوال پھر یہی ہے کہ کون کر سکے گا  دستور کی یہ اصلاح؟

سات  بڑے مسائل ، سات بڑے  اشوزسے نکلنے والے سات سوالات کو سامنے رکھ کر  اب  انتخابی  دوڑ میں شامل تمام  جماعتوں پر ایک نگاہ ڈالیں۔ ان کی  تنظیم، ان کے ارکان، سیاسی   جماعت کی تاریخ، ان کے دستور، انتخابی منشور، اور دیگر شعبہ حیات میں ان کی کارکردگی اور خدمات، ان کی قیادت، اور ان کے  عہدہ داران اور ذمہ داران کی صالحیت اور صلاحیت پر نظر ڈالیں تو ایک جماعت کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں ملے گا، اس جماعت کا نام ہے جماعت اسلامی پاکستان ،جس کا انتخابی نشان ہے ترازو۔ یہ عدل کا ترازو ہے۔  آپ بھی عدل کریں، اپنے ووٹ کی امانت انھیں دے  کر امین ہونے کا ثبوت دیں۔ دوسری کسی جماعت کو ووٹ دینا امانت میں خیانت ہوگا۔ آپ کہ سکتے ہیں کہ وہ جماعت تو جیتنے والی نہیں ہے تو یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ  جس کو ووٹ دیں اس کی حکومت قائم ہو جائے۔  جیت و ہار سے اوپر اٹھنا ہوگا، امانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ کم تر برائی کے   بجائے  حق کا ساتھ دیں۔عدل کے نشان’’ ترازو‘‘ پر مہر لگائیں۔

دوسری طرف میں جماعت اسلامی پاکستان  کے ذمہ داران اور اور ان کے انتخابی  میدان کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ اپنی انتخابی مہم کو مندرجہ بالا سات   نکات کے دائرہ میں رکھیں، اسی کو فوکس کریں، اسے نمایاں کریں، اسی سے اپنا سیاسی  بیانیہ تیار کریں۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ’’  ترقی‘‘ اور ’’خوشحالی‘‘ کے بے معنی لیکن  چمکدار  اصطلاحات سے اپنے منشور  کو  نہ بھریں۔ آپ اسی بات کو نمایاں کریں جسے آپ نے کرنا ہے۔ آپ کی اہمیت اسی وقت تک ہے جب آپ کچھ نیا،  اورسب سے نرالا کرنے جارہے ہوں۔

آپ کو نام نہاد  ’’ترقی یافتہ‘‘ پاکستان کے بجائے ’’ہدایت یافتہ‘‘ پاکستان کی بات کرنی چاہیے۔  حقیقی ترقی اور خوشحالی ہدایت یافتہ پاکستان  سے ہی  وابستہ ہے۔

سب دیکھتے جدھر ہیں ادھر کیا ہے کچھ نہیں

ہم دیکھتے جدھر ہیں ادھر دیکھتا ہے کون

E Mail: Jawed@SeerahWest.com

Facebook: https://www.facebook.com/JawedAnwarPage

X:  https://twitter.com/AsSeerah