اب، جب کہ سب عشق کرنے لگے

جاوید انور

ہم سے چند نسل قبل کے لوگ  عشق کم کیا کرتے تھے، لیکن جب کرتے تھے تو اسے نبھا دیتے تھے۔ میر  تقی میر کے والد علی متقی اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ بیٹا عشق کیا کر، عشق کے بغیر زندگی نامکمل اور ناقص اور بے لذت ہے۔

زندگی کام کی بنتی نہیں بے سوز جگر

شمع بننے کی تمنا ہو تو پروانہ بنے

میر تقی میر نے عشق کیا،  انسان اور کائنات کے خالق اور رب سے عشق کیا اور اس کے بندوں سے عشق کیا۔ اور آہ ،درد اور غم سے پُر شاعری کی ایک نئی طرح دے گئے۔ انگریزوں کی دور غلامی میں ایسے طرح دار اور کج کلاہ  لوگ ہمیشہ  باقی رہے، جنھوں نے اپنی تہذیب، اپنے دین، اپنی زبان،  اپنے ادب، اپنی روایت، اپنی شرافت، اپنی شائستگی  اور  اپنے اخلاق کو بچا لے گئے۔ انگریزی صرف اس لیے سیکھی  تاکہ  انگریزوں سے بات کر سکیں ۔ عربی، فارسی، اور اردو سے رشتہ ہمیشہ جوڑے رکھا۔شیروانی، اچکن، قمیص، چوڑی دار پاجامہ، چھوٹی مہری کا پاجامہ، خالتہ پاجامہ، شلوار، ترکی ٹوپی،  دوپلی ٹوپی، اونچی ٹوپی، گول ٹوپی، ترچھی ٹوپی،  سندھی ٹوپی، پٹھانی ٹوپی، قراقلی، پکول، طاقیہ ،  دستار ، صافہ ، عمامہ، سفید پگڑی، ہری پگڑی، کالی  پگڑی  سب کچھ لے کر چلتے رہے ۔

 چھالیہ، چونا، کتھّا، الائچی، لونگ، زردہ، سونف اور گل قند کے ساتھ پان  کا بیڑہ بنا کر کھا لیا، دانت اور زبان سرخ ہو گئے، اور منہ خوشبودار۔  اسی پان  سےشراب، گانجا، چرس، افیون، سگریٹ، سگاراور نہ جانے کس کس چیز کا مقابلہ کرتے رہے۔بغیر نشہ والا  اور صحت  بخش پان ،  ہر نشہ  آور  اور نقصان آور چیز کا متبادل بن گیا۔

وہ عشّاق تھے جو اپنی ہر پریشانی کو شیروانی میں چھپا کر چلے گئے۔ اپنے دین، مذہب، اور شریعت کو بھی  بچانے کی ہر تدبیر کی۔ سنی ، شیعہ، اہل تصوف ، اہل حدیث،  دیوبندی، بریلوی، مقلد، غیر مقلد،   اپنی اپنی  مساجد میں،  جمعہ کے خطبوں میں، مدارس میں، خانقاہوں میں ،  عوامی دروس  قرآنی میں،  تربیت گاہوں  میں، اور امام بارگاہوں میں اپنے  اپنے تصور دین ، اپنی اپنی سمجھ اور مسلک کے حساب سے  تہذیب مغرب سے اپنے  کو اور اپنی نسل کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ اور بہت حد تک بچا بھی لے گئے۔  آج  انھیں کی نسلوں میں سے لوگ ہیں جو دین کا جھنڈا لیے کھڑے ہیں، خواہ وہ کسی مسلک سے ہوں اور کسی بھی رنگ کا پگڑی یا داڑھی کا  کوئی اسٹائل رکھتے ہوں۔

محفل سماع، قوالی، مشاعرے، مراقبوں کےحجرے، یہ  سب کچھ اپنے نوجوانوں کو مغربی تہذیب، مغربی موسیقی،  اور ان کے نائیٹ کلبوں، ان کے شراب خانوں، اور  ان کے  رقص اور عریاں محفلوں سے بچانے کے لیے سجائے جاتے رہے۔ انھیں مت برا کہیں۔

انیس سو سینتالس 1947 میں انگریز چلے گئے۔  ملک تقسیم ہو گیا۔ دونوں طرف  کی حکومتیں انگریزوں کی تربیت یافتہ، وفادار، خدمت گزار، اور ان کے قابل اعتماد لوگوں کے  پاس چلی گئیں۔ بھارت میں اقتدار انڈین نیشنل  کانگریس کو منتقل  ہوا، جن کی انگریزوں سے تعلق اورمحبت کی  پرانی تاریخ تھی۔ پاکستان کا اقتدارظاہراً مسلم لیگ کو لیکن عملاً سول اور ملٹری بیروکریسی کو خصوصاً اس  مسلم  فوج کو منتقل کیا گیا، جنھوں نے پہلی  اور دوسری جنگ  عظیم میں انگریزوں کے ساتھ لڑ کر بہت قربانیاں دیں اور بہت جان گنوائی تھیں۔1958 میں  پاکستان میں فوج نے اقتدار پوری طرح سنبھال لیا،ان لوگوں نے  ملک کے جاگیرداروں، وڈیروں،   رئیسوں،   خانوں اور امریکی ریاست سے خصوصی تعلق جوڑ کر اپنے اقتدارکو مضبوط کیا۔ اس طرح بھارت پر ہندو برہمن اور پاکستان پر برہمن صفت والے مسلمان قابض ہو گئے۔ دونوں ممالک نے دوران جنگِ آزادی اپنے اپنے لیے جو آدرش،جس نظریہ،  جس نظام، جس خواب کو پورا کرنے کی بات کی تھی، وہ نہ کر سکے، وہ   سب اپنی باتوں   سےمُکر گئے۔ دونوں طرف کی برہمنیت  نے اپنی فطرت کے مطابق،  نسلی، علاقائی، لسانی،لونی، طبقاتی تفریق پیدا کی، اور اس کو خوب پروان چڑھایا۔پاکستان 1971میں دولخت ہو گیا۔ بھارت میں درجنوں علیحدگی کی تحریک پنپیں لیکن ان سب کو مسلم دشمنی اور پاکستان دشمنی کی آگ بھڑکا کر دبائے رکھا گیا۔

پرانے، خال خال اقلیتی عشاق کی محنت کا ثمر  عوامی سطح پر کچھ نہ کچھ 1970کی دہائی تک سرحد کے دونوں طرف دیکھنے میں آیا،لیکن  1980  کی دہائی آتے  آتے،  سارے کے سارے ہی’’ عاشق‘‘ ہو گئے۔ اس  نئے عشق کے لئے جو معشوق ڈھونڈا گیا، وہ تھا مال؛ زمین، زر،جائداد، کوٹھی، محل، مینشن،  پوش کالونی،   مارگیج ، سود، بینک ،روپیہ، پاونڈ، امریکی  ڈالر  ،  پٹرو ڈالر،درہم، دینار، ریال،  بینک بیلنس،اونچی نوکری،  ڈاکٹر، انجینیر، اوپر کی  آمدنی والا سرکاری افسر، رشوت،  انگلینڈ، دوبئی، کویت، دہران،  دمام، الخبر، یمبو، ریاض، جدہ، کیلیفورنیا، نیو یارک  ،  شکاگو، ہیوسٹن ، ڈیلیس، کینیڈا   ، آسٹریلیا، کریڈٹ کارڈز،  برتھ ڈے پارٹی،  مہدی، منگنی،  بڑے باراتی، بڑی بارات، شاہانہ پکوان،  ایپیٹائزر، بڑا  ڈنر، جہیز، لاکھوں کے جوڑے اور کروڑوں کا خرچ اور اس کے بعد شادی کی سالگرہ ۔  موسیقی ، ناچ رنگ ،نئے عاشقین  بہت مصروف ہو گئے، اس نئے عشق میں، یعنی دنیا کے عشق میں۔

سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر بھی حیثیت رکھتی تو وہ کافر کو اس سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا‘‘۔[صحيح] - [رواه الترمذي]

تو بھلا’’ مچھر کے  پر ‘‘ کا  ٹکڑا بھی  کوئی عشق کرنے کی چیز تھی جسے سب کرنے لگے؟ اس نئے عشق نے دلوں کو اخلاق، سچائی، امانت داری، ایفائے عہد، محبت، احترام، مروت، اخلاص، سخاوت، انکساری،  ہمدردی، وسعت ، تواضع، تالیف اوررحم سے خالی کر دیا۔ اور بھر دیا ان کے دلوں کو بداخلاقی، جھوٹ،  خیانت، عہد شکنی، نفرت،   بدتمیزی، بے مروتی، بخالت،  قساوت، تنگی،  سنگدلی ، بے رحمی اور قطع رحمی سے۔

 یہ اور بات ہے کہ دنیا کے اس ریس میں کس کو کیا ملا ، کیا نہیں ملا،لیکن  مقابلہ میں کوئی کسی سے پیچھے نہ رہا۔ عوام اور خواص، جاہل اور تعلیم یافتہ،  غریب اور امیر،  نوکر پیشہ اور کاروباری،  کلرک اور افسر،   جھونپڑی والا اور محل والا  سب اس  دوڑ میں   شامل ہوگئے۔

قومی زوال کی پہلی  وجہ اس کا اخلاقی زوال ہے۔

دنیا سے عشق کا لازمی نتیجہ اس کے جانے اور چھننے کا خوف ہے۔ اور اس دنیا کا خوف انسان کو ڈرپوک، بزدل اور ہلکا بنا دیتا ہے۔ چنانچہ خیر، خوبی، اور امر بالمعروف اور نہی عنی المنکر کے کسی کام کے لئے وہ ناکارہ بن جاتا ہے۔ ان کے اندر ہمت اورجرأت نام کی کوئی شئے باقی نہیں رہتی۔

دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتی
خیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی

دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو اس کے پیچھے بھاگتا ہے، دنیا  اس سے دور بھاگتی ہے۔ اور جو دنیا سے دور بھاگتا ہے، وہ اس کی طرف لپکتی ہے۔ دنیا کی محبت میں آخرت گنوا دیا گیا۔ اور اب دنیا بھی دورجا  چکی ہے۔

E Mail: DailyMuslims@gmail.com

Facebook: https://www.facebook.com/JawedAnwarPage

X:  https://twitter.com/DailyMuslims1